
3 independents covering this.
Summary
گُلزار ساہِب نے نوجوانوں کو اپنی آواز سنائی دینے کی دعوت دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ابھی تک وہ سارا ورثہ ہیں جس کے آئے اطرام کرتے ہیں لیکن ابھی تک کوئی نئی آواز نہیں آئی ہے۔
From the report
بندے مہاترم گاتے تھے جب تو میں کیوں کہ نورد سے اور پلجاب سے اور یوکوز سروں سے ہوں تو بندے مہاترم تو ہم بڑے جوشک ہیں اس کے بعد ایک اور انترم ہمارے دیش میں آیا جو پاپولر ہوا وہ تھا علامہ اکمال کا سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ہم بلگولے ہیں ہم بلگولوں سے زیادہ ہیں اب اور یہ ہندوستان ہمارا وہ کرتے ہیں اس کے بعد بیچ میں پندیت حدیب جی کا ایک گانا آیا دور ہٹو دنیا والو ہندوستان ہمارا ہے یہ سب کہا ہے ہم نے اور جب آزادی مل گئی ہمیں یہ ہماری پوری جنگ اور پوری جد و جہد ختم ہوئی تو ہم نے گردیو کا ان کا نغمہ جنگ نغمہ نے ہم نے وہ کام شروع کیا لیکن ایک بات ضرور کہنے پڑے گی کہ یہ سارے کے سارے ایک صدی پہلے لکھے ہوئے تھے اور اب تقریباً ایک صدی ہونے والی ہے ہم ابھی تک وہ سارا ہمارا ورثہ ہے جس کے آئے اطرام کرتے ہیں لیکن ایک صدی اس سو جو ہونے والی ہے اس میں کسی نوجوان آپ کی پیریز کے کوئی نئی آواز سنائی نہیں تھی جو ہونی چاہیے تھی جو تک ہو جانی چاہیے اور اس کا انتظار کرتے کرتے بھی کچھ میرے مال زفید ہو گئے اور کوئی چھوڑنے رکھ گئے لیکن ابھی تک انتظار ہے کہ ایسی کوئی آواز آئے میں آج کی نوجوان کوئی بھی کوئی انوائٹ کر رہا ہوں اور دعوت دیتا ہوں کہ پلیز آئیے اپنی آواز سنائیے ہم آپ بھی آواز سننا چاہتے ہیں تاکہ اس دور کی آواز اب نئی شامل ہونی چاہیے وہ وقت آ گیا ہے
Lead take from The Wire · always check the original on YouTube
3 independents covering this
Summary
گُلزار ساہِب نے نوجوانوں کو اپنی آواز سنائی دینے کی دعوت دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ابھی تک وہ سارا ورثہ ہیں جس کے آئے اطرام کرتے ہیں لیکن ابھی تک کوئی نئی آواز نہیں آئی ہے۔
“پلیز آئیے اپنی آواز سنائیے ہم آپ بھی آواز سننا چاہتے ہیں تاکہ اس دور کی آواز اب نئی شامل ہونی چاہیے”From the report
بندے مہاترم گاتے تھے جب تو میں کیوں کہ نورد سے اور پلجاب سے اور یوکوز سروں سے ہوں تو بندے مہاترم تو ہم بڑے جوشک ہیں اس کے بعد ایک اور انترم ہمارے دیش میں آیا جو پاپولر ہوا وہ تھا علامہ اکمال کا سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ہم بلگولے ہیں ہم بلگولوں سے زیادہ ہیں اب اور یہ ہندوستان ہمارا وہ کرتے ہیں اس کے بعد بیچ میں پندیت حدیب جی کا ایک گانا آیا دور ہٹو دنیا والو ہندوستان ہمارا ہے یہ سب کہا ہے ہم نے اور جب آزادی مل گئی ہمیں یہ ہماری پوری جنگ اور پوری جد و جہد ختم ہوئی تو ہم نے گردیو کا ان کا نغمہ جنگ نغمہ نے ہم نے وہ کام شروع کیا لیکن ایک بات ضرور کہنے پڑے گی کہ یہ سارے کے سارے ایک صدی پہلے لکھے ہوئے تھے اور اب تقریباً ایک صدی ہونے والی ہے ہم ابھی تک وہ سارا ہمارا ورثہ ہے جس کے آئے اطرام کرتے ہیں لیکن ایک صدی اس سو جو ہونے والی ہے اس میں کسی نوجوان آپ کی پیریز کے کوئی نئی آواز سنائی نہیں تھی جو ہونی چاہیے تھی جو تک ہو جانی چاہیے اور اس کا انتظار کرتے کرتے بھی کچھ میرے مال زفید ہو گئے اور کوئی چھوڑنے رکھ گئے لیکن ابھی تک انتظار ہے کہ ایسی کوئی آواز آئے میں آج کی نوجوان کوئی بھی کوئی انوائٹ کر رہا ہوں اور دعوت دیتا ہوں کہ پلیز آئیے اپنی آواز سنائیے ہم آپ بھی آواز سننا چاہتے ہیں تاکہ اس دور کی آواز اب نئی شامل ہونی چاہیے وہ وقت آ گیا ہے
Watch the original on YouTube — we don't rehost full video.