Part of a cluster — open full story hub

Summary
मोदिया बिंद्र क्या होता है और असली पप्पू कौन है, जंतर-मंतर के प्रोटेस्ट के बाद, नरेन्द्र मोदी की प्रतिक्रिया और फेसबुक पर पोस्ट को हटाने की कोशिश
From the report
इसे मोधियाबिंद का चिक्नित्सा होती है हुन ने सबस्क्राइब अधρα नजर नहीं सकते हैं कि चन्दा-चोड़ी का मामला क्या हो रहा यह संघ को वॉलपी होती है तो यह नजर नहीं आकरी है थे । दोस्तों दुआयर में आपका स्वागत है मैं हूं आर्फ़ा खानम शेरवानी इस सरकार को मोदिया बिंद हो गया है मोदिया बिंद क्या होता है तो आप जानते हैं लेकिन रेणुका चौधरी कांग्रेस पार्टी की नेता और सांसद उन्होंने बताया मोदिया बिंद्र क्या होता है मोदिया बिंद्र में आदमी को दिखना बंद हो जाता है और मोदिया बिंद्र में जो इंसान है उसकी आंखों पर एक ऐसा चश्मा बाकाईदन के चश्मे पर मोदिया बिंद्र लिखा हुआ है आप तस्वीर में देख रहे हैं जिसमें अंधभक्ती इस तरप पहुँचती है कि आपको ये नज़र नहीं आता कि मंदिर में जो चोरी हो रहा है चंदा इसके अलावा पुल तूट रहे हैं क्या कुछ आसपास आपके बिखर रहा है और उसे पुछा कि आप संसद में जाएंगी इसको लगा कर तो उन्होंन उन्हें को उस तर पर आगे बढ़ा दिया था जहां पर वह सिर्फ प्रधानमंत्री नहीं सिर्फ नेता नहीं एक इंसान नहीं पोज उन्हों ने कहा कि वह यह वह प्राकृतित नहीं है प्राकृतित रूप से उनको पैदा नहीं किया गया तो वह व्यक्ति जो अपने को न सिर्फ के एक राजा, एक हिंदू समराठ की तरह पेश कर रहा था, बलकि कभी-कभी तो लगता था कि मोधी वो भगवान बन गये हैं, जिनकी सिर्फ आर्थी उतारी जा सकती है, उनसे सवाल नहीं किये जा सकते, उनसे सिर्फ गुजारिश की जा सकती है, उनसे जवाब दे ही नहीं मांगी जा सकती. आज हम उस दौर में जी रहे हैं, कौकरो जनता पार्टी के, जी हां, जनतर मंतर के प्रोटेस्ट के बाद, उस दौर में जी रहे हैं जहां असली अच्छी तरह ये पता चल गया है कि असली पप्पू कौन है दवायर में ये शांदार आर्टिकल अंग्रेजी में लिखा हुआ आप जुरूर पढ़ें लेकिन मैं आपको इस इनराइटर की कुछ पंख्तियां भी आपको सुनाओंगे, और साथ साथ आपको बताओंगी कि किस तरह से आप ये देखे एक तरफ, ये दूसरा पप्पू देखे आप, असली पप्पू जी हां, जिनको पप्पू कहा गया था जिनको एक factory में बाकायदात तयार की गई एक पप्पू की image पप्पू यानि एक ऐसा व्यक्ति जो कद का चोटा है नाटा सा है घर में चोटा है उसके अंदर कोई अकल नहीं है कोई सलाययत नहीं है कोई श़ूर नहीं है कोई जिन्दगी जीने تو پھر آپ کی خیر نہیں اس کے باوجود بھی تمام طرح کا رسک لے کر یہاں آپ دیکھ رہے ہیں لاکھوں کی تعداد میں خبر یہ ہے کہ کئی لاکھ یوہا پہنچا راہل گاندھی کی اس ریلی میں یا اس ان کے جلسے میں بھاگ لینے کے لیے اب دوسرے طرف آپ یہ دیکھیں نریندر موڈی کو کس طرح سے ان کا مزاق اڑایا جا رہا ہے کیسے ریڈیکیول کیا جا رہا ہے موڈی بلکل ایک ہارے ہوئے تھکے ہوئے ایک ایسے سمرات ایک ایسے وقتی کی طرح دکھ رہے ہیں جو جانتا ہے کہ وہ یہ جنگ ہار چکا ہے لیکن کسی بھی طرح اس کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے نریندر موڈی نے بلایا میٹا کے آفیسرز کو یعنی وہ لوگ جو کہ فیس بک واتس ایپ اور خاص کر سب سے بڑی جو دشمنی کی جڑھ ہے وہ ہے انسٹیگرام ان کے ادھیکاریوں کو بلایا اور کہا کہ مارک زکر برک کو معافی مانگنی ہوگی انہوں نے میری ایک پوسٹ فیس بک پہ کچھ گھنٹے کے لیے کیسے ہٹا دی لیکن اصلی جو مسئلہ تھا وہ اس فیس بک کی وہ پوسٹ نہیں جو نریندر موڈی کی کچھ گھنٹے کے لیے ہٹائی گئی تھی جو اصلی فانس تھی وہ یہ کہ انسٹرگرام میسج بھی بن گیا ہے میسنجر بھی بن گیا ہے انقلاب کا ایک نیا ذریعہ بن گیا ہے نریندر موڈی نے دیکھا کہ کیسے بی جے پی اور آر ایس ایس کی سو سال کی محنت اس یوہ پیڑھی کو تیار کرنے کی جو ہندو راشت بنائے گی بنانا تھا اس کو ہندو راشت لیکن وہ پہنچ گیا اور مانگنے لگا ہے نریندر موڈی کے منتری کا استیفہ نہیں خود نرین درمودی کا استیفہ تو اس کا گلہ گھوٹنے کے لیے انسٹرگرام کا وہ انسٹرگرام سے کہا گیا اور سیدھ طور پر آپ ہم یہ دیکھ رہے ہیں دیوائر کی رپورٹ دیکھے آپ کہ اتنی بڑی تعداد میں پوسٹ کو اور باقاعدہ اکاؤنٹس کو سسپینڈ کیا جا رہا ہے پوسٹ کو ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے کہ اس کو گننا مشکل ہے اس کا رپورٹنگ کرنا مشکل ہے خود دیوائر کی بھی بہت ساری ایسی پوسٹ ہیں جو پرانی پوسٹ بھی تھیں جن کو ڈیلیٹ کروا دیا گیا جن کو اور اکاؤنٹس ایسے ہیں کئی جو عام لوگ بتا رہے ہیں کریئٹرز بتا رہے ہیں کہ ان کو سسپینڈ کیا جا رہا ہے تو آپ یہ سوچیں کہ ایک ایسا ویٹی جس پر ایک ویٹی کے ہسنے سے شروع ہوتا ہے ایک ویٹی مزاک اڑاتا ہے مکھول اڑاتا ہے اور پھر اس کے بعد پورے اس سبھاگار میں ہسی کی جو گونج ہے وہ گونج تھمتی نہیں ہے تانہ شاہ اپنے کانوں پر دونوں ہاتھ رکھتا ہے اپنے آنکھوں کو ڈھک لیتا ہے لیکن نہ تو وہ گونچ اس کو سنائی دینی بند ہوتی ہے نہ وہ آگ دکھائی دینی بند ہوتی ہے وہی حالت نریندر موڈی کی ہو گئی ہے کہ وہ نریندر موڈی جن کو میں نے کہا آپ دیکھئے یہ دو ہزار چوبیس کا ہی یعنی ایک سال کچھ دنوں پہلے کا ڈیڑھ سال پہلی کی یہ ویڈیو ہے نریندر موڈی جب پہنچے تھے رام مندر کے ادھ گھاٹن کے لیے وہاں پر وہ جو ہے اس پوجہ کے جو مندر کے اناؤگریشن کی پوجہ تھی اس کے ججمان بھی تھے وہ یعنی اس کے ہوسٹ بھی تھے اس نریندر موڈی سے اس نریندر موڈی کو کمپیر کیجئے اور نریندر موڈی اب اپنے منتریوں سے کہہ رہے ہیں کہ آپ انسٹرگرام پہ آئیے ادھر آپ دیکھئے راہل گاندھی جب ایک پوسٹ ڈال دیتے ہیں نریندر موڈی نے اپنے منتریوں سے کہا کہ انسٹیگرام پہ آپ اپنے اکاؤنٹ بنائیے تو وہ انہوں نے بنائے یا نہیں بنائیے تو مجھے معلوم نہیں لیکن نریندر موڈی صرف سیلفی موڈ میں ویڈیو لے کر حاضر ہو گیا اور ویڈیو اب ایک نیا ہتھیار بن گیا اس جنزی کے لیے اور زیادہ مزاق اڑانے کے لیے یہ جنزی نہ تو نریندر موڈی کو بھگمان مانتا ہے نہ نریندر موڈی کو سمرات مانتا ہے نریندر موڈی کو وہ صرف نریندر موڈی بھارت کا چنا ہوا ہمارے ووٹ سے چنا ہوا پردھان منتری یعنی ایک صرف ایک نیتا کے طور پر ایک سیوک کے طور پر مانتی ہے اسے لگتا ہے کہ شاید جینزی نے پردھان منتری کی اس بات کو جس میں وہ اپنے آپ کو پردھان سیوک کہتے رہے ہیں اس بات کو شاید بہت سیرسلی لے لیا تو ابھی میں آپ کو بتا رہی ہوں کہ جتنے طرح سے اس کو بند کرنے کی کنٹرول کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اتنا زیادہ خطرناک ہو رہا ہے یہاں پر لیکھا جو ہے اس آرٹیکل کے وہ کہتے ہیں کہ ایک طرح کا پنچنگ بیگ راہل گاندھی کو بنا دیا گیا تھا ہر چیز کے لیے راہل گاندھی ذمہ دار ہے جب تک یعنی لبرل خیمے میں بھی کہتے تھے کہ جب تک راہل گاندھی یہاں پر موجود ہیں بھارتی راجنیتی میں کانگریس پارٹی کے بڑے نیتا کے طور پر تب تک کانگریس پارٹی کا کچھ نہیں ہو سکتا اب وہی پنچنگ بیگ اب وہی پپو فیکیشن پپو کرن ہو گیا ہے یعنی اصلی پپو کون ہے اصلی پپو نرندر موڈی ہے نرندر موڈی اس آندھی کو اس بارڈ کو جو سیلاب آ گیا ہے جو لوگ ان سے ناراض نہیں ہیں ان سے خفا نہیں ہیں صرف ان پر ہس رہے ہیں نرندر موڈی جتنا بھی اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ رہے ہیں اپنے آنکھوں پر ہاتھ رکھ رہے ہیں یہ آوازیں کم نہیں ہو رہی ہیں اور زیادہ بڑھتی جا رہی ہیں اور زیادہ کہیں نہ کہیں میں کہوں گی یہ ایک پورا جو محول ہے اس طرح سے بڑھ رہا ہے تو آپ یہ دیکھئے ریورس میں پپوائیزیشن ہوا ہے نریندر موڈی کا جو کومنٹ سیکشن ہے اس میں دیکھ رہے ہیں وہ دیکھئے آپ کہ کس طرح سے جو ہندوتو کی پوری وچار دھارا ہندوتو یعنی ہندو دھرم نہیں ہندو اسم نہیں ہندوتو یعنی پولٹیکل ہندو اسم ایک ایسا دھرم بنانے کی کوشش جس کے آدھار پر راجنیتی کی جائے گی یہی جو کسا ورکر اور گول ورکر جو آئیڈیولوگ ہیں رسس کے اور ہندوتوکی آئیڈیولوجی کے انہوں نے بتایا ہندوتوکی ایک بیٹی کی چھوی کیسے ہو گئی ہے وہ بتا رہے ہیں کہ ایک اگریسیو میل کی چھوی ہو گئی ہے جو تلک یٹیکا لگا کے گھومتا ہے اور کسی نہ کسی سنگٹھن سے اس کا سمبند ہے یعنی بجرانگدل یا وی ایچ پی اس طرح کے لوگوں سے اور مہلاوں کو دھمکی دیتا ہے میلاؤں کے لیے بھدی بھدی گالیاں وہ دیتا ہے اس کے علاوہ ویجیلانٹی وائلنس یعنی کہ پورے طریقے سے قانون ویوستہ میں اس کا کوئی یقین نہیں ہے یعنی کہ ایک ایسا دیوانا جو اس طرح کے بھگوا کپڑے پہن کر تلک لگا کر سڑک پہ گھومتا ہے جس کا ہمارا جنزی مزاق وڑاتا ہے ہمارا جنزی وہ بھگوا سپاہی نہیں ہے اس کا ایک بڑا طبقہ میں یہ کہنے میں تھوڑا سابدھانی براتنا چاہتی ہوں کہ ایک بڑا طبقہ کیونکہ آپ یہ دیکھئے یہ کامڑیوں کو آپ دیکھ رہے ہیں سکرین پر یہ کامڑی بھی تو ہماری ہی جنسی ہیں یہ تو ہائیوے بند کر رہی ہے ان کے زندگی میں نہ کوئی پرپرز ہے نہ آبجیکٹیو ہے کسی بڑے نیتا کا جو بیٹا ہے وہ کامر نہیں بن رہا ہے میں نے وہی کہا بھکتی میں تو شکتی ہے بھکتی بہت اچھی چیز ہے آسہ بہت اچھی چیز ہے جب تک یہ سماج کے لیے ہانی کارک نہ ہو ہمارے لیے ہانی کارک نہ ہو اب سماج اور خود ہمارا یوہا کس طرح سے بھٹک کر اسے کامور بنایا جا رہا ہے کاموریا بنایا جا رہا ہے آپ یہ دیکھیں کامور لے کے چل رہا ہے ہمارا کاموریا تو یہ بھی لوگ ہیں لیکن بڑی تعداد اب ان لوگوں کی ہے جو جواب دے ہی مانگ رہے ہیں اب یہ دیکھیں آپ کوکریٹ جنرلٹا پارٹی جب لانچ ہوئی تھی لیکھا کیا دلاتے ہیں تو کسی نے بھی اس کی سیرسلی نہیں لیا تھا آپ یقین جانئے میں نے بھی نہیں لیا تھا میں دو تین چیزوں پر مجھے بڑا ہی شک تھا ایک تو باتی تھی کہ بھئی آپ مجھے بتائیے کہ آپ کی پولٹکس کیا ہے کیا آپ کوئی غیر راجنیتک آندولن کرنا چاہتے ہیں کیا ایسا بھی سمبھو ہے کہ کسی آندولن کی کوئی راجنیتی نہ ہو ایسا لگا کہ اسی یہی جو آئیڈیولوجیکل سٹینڈ انہوں نے بہت صاف طور پر نہیں لیا وہ ان کی ایک طرح سے ایک طاقت بن گئی کیونکہ وہ لوگ بھی جو اپنے کو کسی خیمے میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے کوئی رائٹ ونگ یا لیفٹ ونگ وہ بھی ایک ساتھ جڑ کر آ گئے اور انہیں ایک طرح سے ایک سوویدہ ہوئی ایک کمفرٹ کا حساس ہوا کہ بینہ لیبل لگائے ہوئے وہ اس میں حصہ لے سکتے ہیں کیونکہ پورے طریقے سے جو مانگے تھیں وہ سرکار کی جواب دے ہی کے لیے تھیں اور لوگ اس سے جڑتے چلے گئے میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ جڑتے گئے اور کاروان بنتا گیا کس طرح سے کاروان بنا یہ صرف جواب دے ہی کے لیے اس میں کوئی آئیڈیالوجی ہو بھی نہ بھی ہو تب بھی اس کے باوجود بھی جواب دے ہی لینا یہی تو وچار دھارا ہے یہی تو راجنیتی ہے تو یہاں پر یاد دلا رہے ہیں وہ کہ جنتر منتر میں جون میں جب یہ جھٹے تھے تو بہت میں بھی میں نے کہا کہ ان سکیپٹکس میں جو لوگ ان کو سیرسلی نہیں لے رہے تھے یا جاننا چاہتے تھے کہ میں نے آپ کو یاد ہے بیجید دیبکیس اور عبداس دونوں کا میں نے انٹریو کیا تھا اور دونوں سے کافی کڑے سوال میں نے پوچھے تھے اور یہ سوال ظاہر ہے میں ان سے آج بھی پوچھوں گی جس میں کہا جا رہا تھا کہ یہ تو عام آدمی پارٹی کی بی ٹیم ہے حالانکہ سونم بانگ چک ایک اچھے آدمی ہے یہ بھی جاننا چاہ رہے تھے کہ کیا ایک پریشر کوکر کی سیٹی لگا کر اور پریشر کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن آپ یہ دیکھئے کس طرح سے جو ان کی وچاردھارہ کا جو ابھاؤ تھا وہی سب سے بڑا ان کے لیے ہتھیار بن گیا یہ لیکن کم سے کم یہ کہہ رہے ہیں میں ان کی بات سے کم ہو بیش پوری طرح نہیں لیکن کم ہو بیش سہمت ہوں یہ بات سچ ہے کہ اس طرح سے جو انہوں نے ایک لبرل بنام بھکت کا جو ہمارے سامنے کانٹراس پیش کیا جاتا تھا کہ یا تو آپ نریندر موڈی کے سمتھک ہیں یا آپ نریندر موڈی کے ویرودی ہیں یا تو آپ لبرل ہیں یا آپ بھکت ہیں ان دونوں کو لبرل بھی آئے بھکت بھی آئے وہ لوگ بھی آئے جو نہ لبرل تھے نہ بھکت تھے اور ہوا کچھ یوں کہ ایک ایسا استیفہ ہو گیا جس کے بعد سے اب ہمارا پورا جو راجنیتک چکر ہے خبروں کا نہیں راجنیتی کا بھی جو چکر ہے اب وہ پیچھے جانے کا نام نہیں لے رہا ہے پوری خبر یعنی اس بات کو کئی دن گزر چکے ہیں آپ سوچیں جولائی سے لے کے اگست کے مہینے کو بھی ایک ہفتے سے زیادہ گزر چکا لیکن پورا خبر