Part of a cluster — open full story hub

Summary
रमेश बिधूड़ी ने बीजेपी के जीनी जी सम्मेलन में हिंदू-मुस्लिम राजनीति की आलोचना की और कहा कि मोदी जी के प्रियजनों को गाली देने का कल्चर बीजेपी ने बनाया है।
“बीजेपी ने हिंदू-मुस्लिम राजनीति का कल्चर बनाया है।”From the report
مسلمانوں کی اولادیں اتنی مضبوط ہو گئی ہیں اب وہ نہ تو سنکھک ہیں نہ ستائے گئے لوگ ہیں نہ پرطارت ہیں اور یہ تمام باتیں میں نہیں کہہ رہی ہوں خود بی جے پی کے سانسد بیدھوری اس بات کو کہہ رہے ہیں رمیش بیدھوری پنچر لگانے والے وہاں پر زیادہ تھے تعلہ بنانے والے وہاں پر زیادہ تھے پنچر لگانے والے معلوم ہی ہے آپ کو وہ لوگ وہاں پر زیادہ تھے اور چھاٹر لوگ وہاں پر کم تھے یہ بھی میں آپ کو جانکاری دینا چاہتا ہوں ان سے زیادہ بھدی گالیاں دینے والا ویکٹی جس نے گالی کے کلچر کو نہ صرف کہ سڑک بلکہ سنسد تک لے گیا یہ وہ ویکٹی ہے جو سنسد میں جا کر اس نے اتنی گالی گلوج شبدوں کا استعمال کیا اس ویکٹی کو گالی سے سمسیہ ہو رہی ہے کھل کے یہ کہہ رہے ہیں کہ دیشتروہی ہیں یہ لوگ جنٹر منطر پر جنہوں نے دھڑنا دیا ہے اور کہہ رہے ہیں کہ جینزی نے دیش اور سامیدان کے ورود میں یہ آندولن کیا ہے موڈی جی کسی طریقے سے بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سب سے بڑے دوست سب سے بڑے یار سب سے بڑے فرینڈ سب سے بڑے ساتھی ہماری اس پورے جینزی کے کوئی نہیں بلکہ نریندر موڈی بیدھوری جیسے لوگوں سے آپ کا گزارن نہیں ہوگا ہندو مسلم بٹوارے کی راجنیتی کے دن لگ چکے ہیں آپ کو نوکریاں پیدا کرنی ہوں گی پیپر لیک آپ کو روکنا ہوگا ہندو مسلم کر کے اب آپ کو ووٹ نہیں ملے گا آپ کو سپورٹ نہیں ملے گا نمسکار دوائر میں آپ کا سواگت ہے میں ہوں عارفہ خانم شیروانی آپ جانتے ہیں پنکچر بنانے والے جو لوگ ہیں اور تالہ بنانے والے لوگ پنکچر لگانے والے تالہ بنانے والے لوگوں کی بچوں نے ان کی اولادوں نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ جنتر منتر پر جا کر وہ باقاعدہ ایک انقلاب لے آئے ایک آندولن کھڑا کیا اور اس قدر مضبوط ہوا وہ آندولن کہ نریندر موڈی کو پہلی بار اپنے بارہ سال میں گھٹنے ٹیکنے پڑے اور دھرمیندر پردھان کا ستیفہ لینا پڑا اتنے طاقتور ہو گئے ہیں یہ جو پنکچر بنانے والے ہیں کون یعنی مسلمان جی ہاں مسلمانوں کی اولادیں اتنی مضبوط ہو گئی ہیں وہ نہ تو سنکھک ہیں نہ ستائے گئے لوگ ہیں نہ پرطارت ہیں اور یہ تمام باتیں میں نہیں کہہ رہی ہوں خود بی جے پی کے سانسد بیدھوری اس بات کو کہہ رہے ہیں رمیش بیدھوری تو دلی میں باقاعدہ جینزی کو اپنی طرف آکرشت کرنے کے لیے ایک آؤٹریچ پروگرام چل رہا ہے یعنی کہ ایک طرح کا سمیلن یا ایک طرح کا کانکلیو ہو رہا ہے جہاں جینزی کو اپنی طرف لانے کی کوشش ہو رہی ہے یہ کس طرح سے ہو رہی ہے کوشش کی بتایا جائے کہ جینزی ہندو کیا ہوتا ہے جینزی مسلمان کیا ہوتا ہے آپ سوچئے کہ جنتر منطر پر سب سے بڑے مددوں میں سے جو ایک بات تھی وہ یہ کہ ہم ہندو مسلم نہیں سہیں گے سب سے بڑی بات یہی تھی کہ وہاں کا جو جنزی تھا جنتر منطر کا اس نے یہ ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ ہندو خطرے میں ہیں بدھوری نے پھر سے بہت ہی بےہودہ بیان دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ یہ پنکچر بنانے والے اور تالہ بنانے والے لوگوں کی یہ حرکت ہے انہی کی اولادیں گئیں جنٹرمنٹر پر ورنہ بھارت کی کوئی بھی بیٹی یا بیٹا اس طرح سے نہیں ہو سکتے اتنے خراب نہیں ہو سکتے سن لیتے ہیں برگلا کر بھیلا کھکا کر وہاں پر دیس پچاس ہزار بچوں کو وہ جو بیروجگار پنچر لگانے والے وہاں پر زیادہ تھے تالہ بنانے والے وہاں پر زیادہ تھے پنچر لگانے والے معلوم ہی آپ کو وہ لوگ وہاں پر زیادہ تھے اور چھاتر لوگ وہاں پر کم تھے یہ بھی میں آپ کو جانکاری دینا چاہتا ہوں اور کیا بھارت کی بیٹی یا بھارت کا بیٹا موڈی جی کے بارے میں ان کے پریوار کے بارے میں اس پرکار کی باتیں کر سکتے ہیں کیا وہ پنچر لگانے والوں کی ہی اولادیں ہوں گی پنچر لگانے والوں کی خاندان ہوں گے جو موڈی جی کے بارے میں اس پرکار کی باتوں کا اپیوک کر رہے تھے بھائیوں بہنوں جیہاں تو وہ کہہ رہے ہیں چھاتر کم تھے اور یہ لوگ زیادہ تھے اب سوچئے کہ جو گالی گلوج ہے اس سے کس کو سمسیہ ہو رہی ہے میں ہسی آ رہی تھی مجھے واقعی آج کل ہسنے کے دن ہے اکثر آپ جانتے ہیں کہ بیٹھ کے ہم آلوچنا ہی کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کتنی نراشہ ہے بھارت جو ہے پورے طریقے سے گرت میں جا رہا ہے لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہسنے کی بھی ایک کبھی موقع آنا چاہیے اب ہسنے کہہ دینا ہے بدھوری جو باقاعدہ ان لوگوں کی مہاتمہ ہیں بھگوان ہیں جو لوگ گالی بک کر اپنی بات کرتے ہیں ان سے زیادہ گلوک اردو میں شبد ہوتا ہے گالی بکنے والے کو گلوک کہا جاتا ہے ان سے زیادہ بھدی گالیاں دینے والا ویکٹی جس نے گالی کے کلچر کو نہ صرف کہ سڑک بلکہ سنسک تک لے گیا وہ ویکٹی جو اتنا بےہودہ ہے کہ اس نے ایسے شبدوں کو کہا کہ میں اس کارکرم میں مجھے نہیں پتا کس عمر کے لوگ اس کارکرم کو دیکھ رہے ہیں میں اس کارکرم میں ان شبدوں کا استعمال بھی نہیں کر سکتی جو اس وقتی نے دیش کی سنسد میں کہا دانش علی جو انہی کے ساتھی سنسد تھے دیش کی سنسد میں اس وقتی نے گالی بکی تھی ان کو آتنکوادی کہا تھا اور ان کو دو تین اور تلہا کی گالیوں سے نوازہ تھا تو جو خود مہاتمہ ہیں بھگوان ہیں یا میں کہوں کہ شیطانوں کے بھی تو کوئی بھگوان ہوتے ہوں ان کو کیا کہتے ہیں شیطانوں کے جو بھگوان ہوتے ہیں وہی میں کہہ رہی ہوں یہ وہ ویکٹی ہے جو سنسد میں جا کر اس نے اتنی گالی گلوج شبدوں کا استعمال کیا اس ویکٹی کو گالی سے سمسیہ ہو رہی ہے اور ویکٹی یہ کہہ رہا ہے کوئی بھی بھلا آدمی کوئی بھی بھارت کا بیٹا یا بیٹی مودی جی کو یا ان کے پریوار کو گالی نہیں دے سکتا اور یہ تو صرف وہی لوگ ہیں جو پنکچر اور تالہ بنانے والے ہیں بھئی آپ سے ہی تو سیکھا ہے بیدوری جی یہ جینزی جو گالی بک رہا ہے چاہے پنکچر بنانے والا ہے چاہے وہ تالہ بنانے والا ہے اس نے آپ سے ہی سیکھا ہے مہدے آپ ہی نے یہ کلچر پیدا کیا ہے بارہ سال میں آپ ہی کے جیسے جو بی جے پی کے آر ایس ایس کے لوگ ہیں جو ودھائک ہیں نیتا ہیں سانسد ہیں انہوں نے ہماری جینزی کو سکھایا ہے آپ نے بارہ سال میں جو کلچر بنایا تھا جو آپ نے بیج بویا تھا آپ اس کی فصل کارٹ رہے ہیں روئیے مت آپ کے رونے کے دن آ گئے ہیں روئیے مت آپ آپ اس بات پر خوش ہوئے جو گالی کا کلچر آپ نے بنایا تھا आपने तैयार किया है आप स्कूल के हेड मास्टर है मैं आप दर्शकों को याद दिला देती हो सकता है बहुत दिन है हो गए आप लोग भूल गए होंगे यह सुन लीजिए आप जरा क्या कहा था इन्होंने देश की संसद में बोधी साहब नहीं ले रहे हैं इसके वैज्ञान ओपने पर आप राधी तेरे ले रहे हैं इस पर प्लीज थे अगर वादी बोलें तुम्हारा कभी भराओगा यह बता रहा हूं यहां तो यह हमारे सांसद की भाषा है इस बात को दिन गुजर चुके इस व्यक्ति को कोई भी खामियाजा खाला भुगतना पड़ा इस बात कि उस ने खुद किसी पंकचर ताला बनाने वाले नहीं बल्कि इस व्यक्ति ने खुद अपनी ही सांसद साथी के बारे में इतनी धड़ा बातें कहीं थी लानि शली के बारे में क्यूंकि वह एक मुसलमान थे देश की संसद में यह भी देखा है इस जमीन ने इस आस्मान एसर जमीन यह भी देखा कि देश की संसद में इस बटकरीन जाली को दिया गया तो मैं वही कह रही हूं कि आपको बिल्कुल पछटाने की भी सूरत ही है तो अपने तो आपको खुश होना चाहिए अब आप डिफान सल तैयार हो चुकी है आपकी खेती लहला रही है वही गालियों में बीज हो थे और यह कहार होते हैं आप ताल बनाने की पंकचर बनाने में कोई हरज कोई हरज बत्तमीज होने हरज है हिनसा पहलाने में हरज है नफरत पहलाने में और बटवारा पहलाने में हरज है सुमाज को बातने में हरज है आपकी पुलिटिकल पार्टी जिससे आप आते हैं जिस तरह के आप शांसद हैं हरज है इस तरह के व्यक्ति होने में जो व्यक्ति समाज पर लानत हो जिसकी पर जीजक नहीं है चाहें आप ताला बनाते हो चाहें आप पंक्चर बनाते हो या मास्टर हो या पत्रकार हो या आप डॉक्टर हो या इंजीनियर हो बुरा तो तब होता जब आप कहते कि चोर हैं या डकैत है चोर कैसे नहीं मेहंद से बनाने वाले और इसलिए भी उनको पंक्चर और ताला बनाना पड़ता है क्योंकि आप ही की जो यह बहुत ही भेदभाव वाली राजनीति है जिसकी वजह से स्कूल में पढ़ना पढ़ने के बाद नौकरी हासिल करना भारत में मुसल्मानों के लिए भगसंभव हो जाता है इसलिए बहुत सारे लोग छोटे-मोटे काम करके किसी तरीके से अपना पेट पालते हैं लेकिन किसी से शिकायत नहीं करते हैं आपको लग रहा होगा कि जैनसी को अट्रैक्ट करने के लिए मोदी जी क्या-क्या नहीं تو مجھے نہیں لگتا آپ کہیں پہنچیں گے کیونکہ آپ یہ دیکھیں دوسرے آر ایس ایس کے نیتا نے کیا کہا ہے اب یہاں پر تو ایک طرف اٹریکٹ کرنے کا پلان کیا جا رہا ہے کہ جو سی جے پی کا پورا پروٹیس تھا ایسا لگتا ہے کہ مودی جی پر سیدھے طور پر اس کا اثر پڑا ہے لیکن جنزی کے خلاف ایسا لگتا ہے کہ آر ایسے پورے طریقے سے کھل کر میدان میں آ گیا اس سے پہلے ایک اور نیتا کا بیان میں نے آپ کو سنبھائے تھا یہ دیکھیں اس بیان کو جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ جو لڑکیاں بھاگ لے رہی ہیں ان کا گینگ ریپ ہونا چاہیے اس طرح کی گھٹیا شبدہ والی کا استعمال کیا تھا اب جو سرکاروحک ہیں اطل لمرے وہ کیا کہہ رہے ہیں وہ کھل کے یہ کہہ رہے ہیں کہ دیشتروحی ہیں یہ لوگ جو جنتر منتر پر جنہوں نے دھڑنا دیا ہے اور کہہ رہے ہیں کہ جینزی نے دیش اور سمدھان کے ویرود میں یہ اندولن کیا ہے اب پورے طریقے سے یہ لگتا ہے کہ یہ جو ہمارا جینزی ہے اب سمجھ میں نہیں آرہا ہے بھاج پاکوں کے آخر کرے تو کرے کیا آپ سوچئے جس وقت یہ اطلع میں یہ سب باتیں کہہ رہے ہیں ابھی آپ کو میں بیان بھی سنوا دیتی ہوں ساتھ ساتھ اسی دوران اسی ٹائم لائن پر دوسرا ویڈیو یہ موڈی جی کا جاری ہوا ہے یہ فرنشپ ڈے پہ جاری ہوا ہے جس میں فرنڈز کا گانا لگا کر اور موڈی جی کسی طریقے سے بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سب سے بڑے دوست سب سے بڑے یار سب سے بڑے فرینڈ سب سے بڑے ساتھی ہمارے اس پورے جنزی کے کوئی نہیں بلکہ نریندر موڈی ہیں تو میں اس بات میں نریندر موڈی کی بالکل تعریف کروں گی کہ ایک طرف ایسا نہیں ہے کہ وہ چھپ کے کہیں بیٹھ گئے ہیں پورے طریقے سے وہ ان کی پارٹی اس بات کو سویکار کر رہی ہے کہ یہ جنریشن جو فرس ٹائم ووٹر جنریشن ہے وہ جنریشن جس کے لیے وہ یہ ہندو راشت بنانے جا رہے تھے وہ ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے وہ پوری ہندو مسلم بائنری جو یہ بٹواری کی پوری راجنیتی ہے اس کو ریجیکٹ کر چکی ہے آپ یقین جانئے جنتر منتر شاید ایک ایسا پروٹیسٹ رہا ہوگا میرے پترکارتہ کے جیون میں جہاں میں نے اس شبد کو نہیں سنا بلکہ اگر مزاق میں بھی آپ ہندو مسلم شبد بول دیتے میں نے ایک دو سوال کٹاکش کرتے ہوئے وہاں لوگوں سے پوچھ لے تو آپ سوچیں مجھ پہ لوگ ناراض ہو گئے جب میں نے وہاں یہ کہا کہ بھی آپ یہاں پر پروٹیسٹ کر رہے ہیں ادھر مودی جی ہندو راشت بنا رہے ہیں تو لوگ آنکھ ببولا ہو گئے اس سوال کو سن کر وہ میرا کٹاکش نہیں سمجھ پائے تھے تو یہ وہ پروٹیسٹ تھا جس نے بھارت کو میں کہوں گی نصف کے جوڑا ہے بلکہ بہت سارے زخموں کو مرہم دیا ہے ایسے زخم جو لگ رہا تھا کہ ناسور بن رہے ہیں اس دیش کے لیے ہندو مسلم کو باٹنے کی پوری راجنیتی جو بھاجپا کے پوری طریقے سے دھراتل ہی یہی ہے اس کا پورا راجنیتیک دھراتل جو سیاسی زمین ہے وہ یہی ہے کہ ہندو مسلم کو باتو ہندووں کے ووٹ لو کچھ ہندو آپ کو ہمیشہ ووٹ کرتے رہیں گے تیس پہنچس فیصد اور آپ ہمیشہ سرکار میں رہیں گے صرف اتنا ہی چاہیے آپ کو اس سے زیادہ نہیں سو فیصد ہندووں کے ووٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے پورے اوورال جو ووٹنگ پرسنٹیج ہے اس میں تیس پینتیس چالیس پیسد لوگ ان کو ہمیشہ ووٹ دیتے رہے ہیں اور یہ ہمیشہ چن کر آتے رہیں گے جنتر منتر نے ایک طرح سے میں کہوں گی نرندر موڈی رسس انکپور