
Summary
पेपर लीक के बाद युवा लोगों ने जंतर मंतर पर प्रदर्शन किया, जिसमें बच्चों के भविष्य को खतरे में डालने के खिलाफ विरोध किया गया। प्रदर्शनकारियों ने सरकार के खिलाफ गुस्सा व्यक्त किया और अपने भविष्य को सुरक्षित करने के लिए कार्रवाई करने की मांग की।
“पेपर लीक के बाद युवा लोगों ने जंतर मंतर पर प्रदर्शन किया”From the report
नमस्कार कि बई पेपर लीग की वजह से नराज थे लेकिन अगर उनसे पूछा जाए के वो नराज क्यों हैं तो वो खुद बताएंगे क्यों नराज हैं वो सारे हिंदोस्तान की जो विवस्ता है जो ढांचा है हिंदोस्तान का जो शासन है उस से नराज थे पेपर लीग तो एक मतलब पर कोई डंडा था ना क्यों पत्थर थे वहां बैठे थे और सोनम वांगचु ने अंशन किया अंशन कई दिनों तक चला 28 दून से शुरुवात हुई उसकी जुलाय तक चला 18 जुलाय को फिर पुलीस ने उसको उठा लिया और हस्पताल ले गए सफतर जंगले गए कुछ और युवानों ने भी अंशन किया लेकिन वो वहाँ रहे हैं उसके बाद क्या हुआ कि 20 तारीक को लाटी चार शुरू हो गया महलाओं को बच्चियों के उपर हमला हुआ कपड़े फाड़े गए टीर्स का छोड़ा गया रैपिड आक्शन फोर्स ने फिर पेलेट गन भी चलाए, किसी की आंक भी फोड़ दी, बूपे लगी, बदन पे लगी, और गुस्सा बढ़ गया. अब अगर ये सवाल पूछा जाए कि इसकी वज़े क्या थी इस सारे हाथसे की वज़े क्या थी क्यूं युवा लोग बाहर आ गये और क्यूं उन्होंने इस तरह से और केवल दिल्ली में नहीं शिवाजी पार्क में हुआ भोपाल में हुआ पटना में हुआ कलकत्ता में हुआ चोटे चोडे शेहरों में हुआ क्योंकि युवा बहुत नरास था और अगर आप पूछें उसकी वज़े क्या है तो ये जो पेपर लीक है ये तो वज़े बन गई असली गुस्सा था इस सरकार के प्रती कि बच्चों का जो भविश्य है वो खतरे में है और इस संदर्मे में मैं दो चार बातें आप से कहना चाहता हूँ फिर अपने जो हमारे गेस्स हैं उनसे बात करेंगे चर्चा करेंगे कुछ बच्चों को पूछा गया कि आप क्यों यहाँ आये हो तो एक ने कहा मोदी had messed with the wrong generation यह उनकी भावना थी एक ने कहा कि the resignation is not an end it a beginning we will come back again if something happens in the future the protest is no longer about one exam یہ ادھرانی اور ریکروٹمنٹ سسٹمز کے بارے میں باہر کرنے کے بارے میں ہے۔ ایک نے کہا کہ یہ صرف پہلے بار ہے۔ یہ بھی بات نہیں ہے۔ یہ بات ہے جاب مارکٹ کے بارے میں۔ ایک اور نے کہا موڈی جی we have been left behind موڈی جی take action to secure the next generation's future so obviously جو بھاونا تھی بچوں کی وہ یہ تھی کہ ہمارے بھوشت ہمیں اجمل دکھ نہیں رہا اور یہ ہندوستان کے سبی یوگاؤں کی بھاونا ہے تو کیا پیپر لیک کی ایک معاملہ تھا یا واقعی میں نراش ہو کر بچے آئے اکٹھا ہوئے اور خطاش ہو گئے کہ سرکار ان کی بات سن نہیں رہی تو اس کے بارے میں ہم آج ہم چرچہ کریں گے تین ایسے گیسٹ ہمارے ساتھ ہیں اور بہت ہی وہ سمجھ لیجئے کہ اتنی ان کی بھاونایں ہیں جتنی یوہوں کی بھاونایں تھیں جنتر منتر میں مہترہ جی آپ کا بہت بہت سواگت آپ پہلے تو میرے خیال آپ کریمپور سے ملے رہی اور پھر دوزار انیس میں اور دوزار چوبیس میں آپ لوگ سوا جیتی کشنا نگر سے اور آپ راجنیتی میں کافی لیٹ آئیں کیونکہ آپ پہلے امریکہ میں آپ نے اپنی میٹھومیٹکس اور ایکانومکس میں ڈگری لی اور اس کے بعد آپ نے جی پی مورگن انویسمنٹ بینکر کے ساتھ آپ نے نوکری کی یو نیو یارک میں اور لندن میں پھر آپ نے سوچا کہ ابھی راجنیتی میں آنا چاہیے تو شروعات آپ کی کانگریس پارٹی سے ہوئی تو ایک سال کے بعد آپ ٹی ایم سی جوائن کیا اور پارلیمنٹ کے باہر تو آپ بولتی ہیں جب پارلیمنٹ کے اندر بولتی ہیں دیش کے سب ہی یوہا لوگ آپ کو سنتے ہیں تو آپ کا یہاں آنے کا بہت بہت دھنیواد پریمی چندے جی تھانکیو آپ کے پتا جی کے ساتھ تو میرے بڑے گہرے سمبند رہے اور مجھے اچھا لگا کہ آپ بھی آج پارلیمنٹ میں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ بھی اس دیش کے لیے جو آپ کے پتا جی نے کیا اس سے بھی بڑھ کر آپ کریں گے آپ نے سکولنگ بمبے میں کی اور پھر آپ سینٹیل سینزیویرز کالیج میں پڑھی وہاں آپ نے پھر اللبی لاکالیج سے کی مہاراسترہ میں آپ ایک انجیو چلاتی ہیں جس کا نام ہے جی جوئی اور وہ انڈر پریولیج لوگوں کے لیے ہے اور امپلائیمنٹ آپرچونٹیز کے لیے ہے اور پہلے تو آپ مہاراشتہ اسیمبلی میں ممبر رہیں سولہ پور سٹی کنسٹیچوینسی سے میرے قدر دو تین بار ممبر رہیں میں جنتر منتر میں اور they were treated quote unquote like terrorists تو آپ کا بھی بہت سواگت ہے جس چرچہ میں اکا جی پہلے بھی آپ ہمارے شوہر میں آئی ہوئی ہیں آپ کے پتا جی ایمیل اے رہے ممبر of لوگ سبا رہے راجہ سبا میں رہے آپ کی ماتا جی بھی ممبر آف پارلیمنٹ رہی آپ کے بھائی تین بار لیجسلیٹل اسیمبلی میں رہے تو آپ نے یہاں سے دیدی شریرام سے اپنا گریجویشن کیا ہے اور آپ سی اے اینٹی سی اے پروٹیس میں بھی آپ شامل ہوئی پھر آپ نے کیرانہ سے آپ نے لوگ سبا اچھا ناو جیتا بات آپ کا بہت بہت دھانے وار موہا جی آپ سے شروع کرتا ہوں کیوں آپ دیکھتے ہیں کہ بچوں کو گلی کردی اور سوڈنلی ہے یہ صرف پیپر لیک کی وجہ سے ہے نہیں تھا صرف پیپر لیک کی وجہ سے لیکن ہم نے دس پہلے 10 15 سال کے پیچھے سے دیکھا ہے بھی اندر انڈیا میں ہم گروہ رہے ہیں میں 51 ہوں میں نہیں جانتا کہ میں جنریشن اے بی ہے میں نہیں جانتا کہ ہم کسی ہیں، میں بیوی بومرز اور ملینیلز کے دوسرے میں ہوں لیکن ہمارے وقت میں بھی ایک طرح تھا کہ اس کی طرف سے بھرانا جاتا ہے اندیا میں دو چیزیں ہیں، ایک یہ جات پاتھ کا چکر ہے اور دوسری ہے کہ یہ گریبی کا جات پاتھ ہے اور کسی کے پیدائش میں ان دو میں سے ایک ہے تو اگر آپ کو اس سے باہر جانا ہے تو آپ کا اپائی کیا ہے کہ آپ کوئی میرٹ بیسٹ ایکزام دے کے باہر ہو جائے اسی لئے لوگ ایپی ایس، آئی ایس، آئی ایر ایس دینا چاہتے ہیں کیونکہ وہ گریبی بھی نہیں جات پاتھ کے وہ چکر سے نکلنا چاہتے ہیں میڈیکل ہو جائے یہ بھی ہو جائے تو جب اس ایکزام میں تو جب سب جگہ اس ایکزام it was the last I would say the last bastion where merit mattered کہ کہیں بھی اگر آپ پڑھائی کر لو تو یہاں سے یہ کر سکتے ہو اگر 2 لاکھ لوگ اسے 3 سیٹس کے لیے دیا گیا تو بھی یہاں تھا تو جب پچھلے 10 سال میں 152 لیک ہو گئے یہ ایک مہینہ کے اوپر ایسا عدد ہے جب 7-8 کروڑ بچوں کی مستقبلیں اثر ہو گئے یہ بہت ہی بلوئنگ کر رہا ہے اور جب 2024 کی لیک ہو گیا تو یہ بہت بڑا حصہ تھا اب انہوں نے ایک ایک لائی آیا بہت یہ واہ بھائی کی اپنی کہ ہم یہ ایک لارے اس کے بعد یہ کچھ نہیں یہ نہیں ہونے والا ہے پھر ابھی کیا ہوا؟ لانچ دو سال یہ ہونے کے باوجود اتنے سارے لیک آ گئے تو میں فکر کرتا ہوں کہ جنریشن ہم نہیں صرف ایک بھائی میں گھڑا رہے ہیں ہمارے والدین بہت بڑا رہے ہیں जो नॉर्मल प्रोपागांडा है वो मेंस्ट्रीम टेलिविजिन से है एक बच्चे ना मेंस्ट्रीम टीवी देखते हैं, ना केबल टीवी देखते हैं। जब 2014 में यह सरकार आई, तो यह बच्चे के उमर चार साल, छह साल थे। तो यह तो कॉंग्रेस मुक्त भारत में पैदाई हुए हैं। तो यह जब बीजेपी सेज है आप योर troubles are all due to the congress or previous government they don't identify with it because they are like हमने तो सिर्फ आपी को देखा है they are not interested in emergency, they are not interested, it doesn't work with them तो एक paradigm shift हो गया है और यह paradigm shift जो हम भी नहीं समझ पारे सरकार तो बहुत दूर की बात है so this is the anger with Gen Z and Gen Z doesn't know fear the way we know fear because they are like हमारा तो कुछ हो ही नहीं रहा है अगर कुछ हो ही नहीं रहा है आप सोचे कोई लाल किलेपी या जंतन मंतर में खड़े होके प्रधान मंतरी को 56 इंच का छोटा बंदर कह दे और ऐसे नारे लग जाए और मतलब वाइरल हो जाए और देश का प्रधान मंतरी, प्रोपरगैंडा, पुलिस कुछ करना पाए इस यह अनॉर्मस है, इस विश्वास के प्रभाव के पास देखता है तो मैं आपके पर यह विश्वास था मैं आपसे सवाल एक पूछना चाहता हूँ कि सभी बच्चा लोग सरकारी नौकरी चाहते हैं क्योंकि प्राइवेट सेक्टर में इतनी opportunities हैं नहीं तो सोचिए कि 22,80,000 बच्चे कमपीट कर रहे हैं 1,25,000 सीटों के लिए उसमें से 20,00,000 को तो कुछ मिलेगा ही नहीं और वो 20,00,000 कहां जाएंगे उनको प्राइवेट सेक्टर में भी कुछ नहीं मिलेगा क्योंकि ऐसी नौकरी है ही नहीं इस सरकार ने पिछले ग्यारा साल में ऐसी कोई ववस्था बनाई नहीं कि बच्चों को नौकरी मिल सके अगर सरकारी नहीं है तो दूसरी जगा मिल सके तो मैं समझता हूं कि यह भी एक बुनियादी प्रॉब्लम थी सारे सिस्टम में जिसकी वजह से यह उभार यह प्रॉब्लम हो रहा क्योंकि इनके पैरेंस जो है जो आज जो रिक्षा भी चलाता है वह चाहता है कि उसका बेटा को ग्राजुएट करें तरह बनाएं तो ये जो educated at least with a graduate degree जो इतने सारे बच्चे है and there is nothing in the private sector और जैसे सरकार is coming out with programs like that internship program as you saw right, there is not enough that many jobs in India forget about and you saw how that money was wasted तो ये जो हर साल budget में आता है दो कलोर नौकरी देंगे ये 14 साल से, 12 साल से लोग सुन रहे हैं, सुन रहे हैं, सुन रहे हैं and now the rubber has really hit the road और ये सब कहानिया, all this trust has completely broken