Part of a cluster — open full story hub

Summary
नरीनदर मोदी ने पचास दिनों के प्रोटेस्ट के बाद पहली बार ट्वीट किया कि पेपर लीग के मामले में कड़े हैं। लेकिन सीबीआई के वकील ने फास्ट ट्रैक कोर्ट में पहुंचने से पहले ही वहां से चले गए।
From the report
موسیقی ان کیسز کو ان ایف آئی آرز کو وڈڈراؤ کیا جا رہا ہے لیکن ایک ہی لمحے میں آنگی اس خبر کے اوپر اس سے پہلے یاد آگئے مرزا غالب کیونکہ ایک نئی خبر آئی ہے ابھی مرزا غالب کہہ کے چلے گئے کہہ کے گزر گئے کہ تیرے وعدے پر جیے تو یہ جان چھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا مر گئے ہوتے ہم نریندر موڈی کے وعدے پر اگر ہم نے اعتبار کیا ہوتا اگر ہم نے وشفاس کیا ہوتا وہ تو اچھی بات ہے کہ نریندر موڈی کے سٹائل کو ان کے کام کرنے کے طریقے کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں ایک بات بار ایک بات کو کہنا اور پھر کس طرح سے اس کو بالکل بھی لاغو نہ کرنا نریندر موڈی کی امانداری پر یقین نہ کریں تو ہم کیا کریں سی بی آئے جی ہاں بیرو آف انویسٹگیشن نریندر موڈی کی ہوم منسٹری کے ما تحت کام کرتی ہے لیکن اس کے باوجود جو خبر آپ کو بتانے جاری ہوں بلکل چونکانے والی بات ہے آپ کو یاد ہے کہ نریندر موڈی نے پچاس دنوں کے اس پورے پروٹیسٹ اور آندولن یا انقلاب جو آپ کہنا پسند کریں وہ اس کو کہیے اس کے بعد پہلی بار اپنے انہوں نے مک سے جو شبد کہے باقاعدہ انہوں نے ٹویٹ کر کے کہا کہ بہت سخت ہیں وہ پیپر لیگ کے معاملے میں اور یہ دیکھئے فاسٹ ٹریک کورٹ بنایا جا رہا ہے میں جنتر منتر پہنچی تو وہاں ایک بھی ایسا ویقتی نہیں ملا جس نے کہا ہو کہ پردھان منتری بات پر اس نے یقین کیا ہے لیکن پردھان منتری آپ سوچیں اگر اس ویقتی کی ہم بات بھی نہ کریں تو کم سا کم اس کے پد کی اس کی کرسی کی گرمہ کا تو دھیان رکھنا پڑتا ہے تو میں نے سوچا کہ پردھان منتری اتنے دباؤں میں جبکہ پورا کا پورا ینگ جنریشن ہمارا سڑک پہ آ گیا ہے پردھانمنٹری کسی بات کو کہہ رہے ہیں اس کی ایک حیثیت ہوتی ہے اس کی ایک اہمیت ہوتی ہے اس کا ایک قانونی پہلو بھی ہوتا ہے انہوں نے سریعام اس بات کو کہا کوئی پرائیوٹلی کسی کے ساتھ نہیں کہا لیکن اب سنی اب کیا ہو رہا ہے خبر دیکھیں اپنی سکرین پر تو یہ اگزیم پیپر جو لیک کیس ہے اس میں پہلی ہیرنگ پہلی سنبائی ہونی تھی وہ ایڈجرن ہو گئی ہے کہ اس سی بی آئی کے جس وکیل کو پہنچنا تھا وہ وہاں پہنچے ہی نہیں جی ہاں خوشی سے مرنا جاتے گر اعتبار ہوتا اعتبار ہوتا تو شاید اسی دن جس دن پردھان منتری نے یہ کہا تھا کہ ہم فاسٹ ٹریک پورٹ بنا رہے ہیں اسی دن مر گئے ہوتے کہ ارے بھائی اتنی خوشی کی بات ہے پردھان منتری نے کہہ دیا آپ سب کچھ ختم ہو گیا ہے اس لیے ہم نے ان کے وعدے پر کبھی اعتبار نہیں کیا تھا سی بی آئی کا وقید ایک ایسے معاملے میں جس میں پردھان منتری کا شبد بھارت میں کہاوت ہے کہ پران جائے پر وچن نہ جائے اس معاملے میں سنبائی ہونی تھی اور ابھی کچھ گھنٹے پہلے کی بات ہے یہ کہ وہ وکیل وہاں پہ نہیں پہنچا جو کاؤنسل تھا وہ نہیں پہنچا سی بی آئی کی طرف سے اس کو پہنچنا تھا آپ بتائیے کہ ایسے پردھان منتری کی جو کہتے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں جب کووٹ کے وقت میں انہوں نے کہا تھا ڈی مونیٹائزیشن کے وقت انہوں نے کہا تھا کہ میں بھارت کی اکانومی بھارت کی اتفیوستہ کو بہتر بنانے کے لیے کالے دھن کو واپس لانے کے لیے غریب آدمی کو امیر بنانے کے لیے بھارت میں برابری لانے کے لیے امیروں سے پیسہ چھین کر غریبوں کو دینے کے لیے میں کر رہا ہوں اگر نہ ہو تو مجھے چوراہے پہ فانسی چڑھا دینا اب کس چوراہے پر لے کے جائیں نریندر موڈی کو آپ دیکھئے یہ انہوں نے ٹوٹر کے چوراہے پر باقاعدہ یہ ٹویٹ کیا تھا اب سی بی آئی کا وکیل نہیں پہنچا کتنی گمبیرتہ سے ہم اس بات کو آخر لیں اب اگلی خبر سناتی ہوں آپ کو آپ یہ دیکھئے کہ تتھا گتھر جو ہمارا درباری میڈیا ہے جو پوری دنیا میں شہرت ہو گئی ہے کہ گودی میڈیا لوگ ریسرچ کر رہے ہیں کہ آخر گودی کیا ہوتا ہے لیپ ڈاگ میڈیا یعنی کہ یہ سرکار کی گود میں بیٹھا رہتا ہے یہ سرکار کی جب میں پڑا رہتا ہے لیکن اس سے کہیں آگے بڑھ کے کرمنل مجرم میڈیا نازی میڈیا بن چکا ہے یہ بھی جب ریپورٹ کرنے لگے اور جینزی سے ہی سیکھا میں نے یہ بھاشا ان کے ایک بورڈ پہ لکھا ہوا تھا کہ it is so bad that even privileged are here اتنے خراب حالات ہو گئے ہیں کہ جو لوگ جن کے پاس سب کچھ ہے تمام طرح کے سنسادن دھن دولت سب ہے وہ بھی ہاں ہاں آ گئے ہیں پروٹیسٹ میں سو اٹ اس سو بیٹھ ڈیٹ ایون گو دی میڈیا رپورٹنگ تو آپ یہ دیکھئے کہ خبر پڑھئے کہ ٹائمز ناؤ جس میں ایڈنپ گو سوامی کہہ رہے تھے کہ نریندر موڈی نے یہ استیفہ دھرمین پردھان سے اس لیے دلوایا کیونکہ اس پورے مارچ میں اس پورے آندولن میں جس کو ان کا چینل انٹی نیشنل کہہ رہا تھا ان تمام یوباؤں کو تمام جو درباری میڈیا ہے وہ آتنکوادی کہہ رہا تھا وہ ماویسٹ کہہ رہا تھا نیکس لائٹس کہہ رہا تھا پاکستان سمتھت کہہ رہا تھا امریکہ سمتھت کہہ رہا تھا وانگ چک کی پتنی تک کا وہ بھی یہ پتنی نہیں اس سے پہلے جو پتنی تھی ان تک کا تمام نیٹورک نکال ڈالا کہ کیسے وہ امریکہ سے سمتھت تھی اور کیوں آج اپنی پورو پتنی کے کہنے پر وان چک آج یعنی کئی سال پہلے قریب دس سال پہلے دوسری پتنی سے ان کا رشتہ بھی اسٹیبلش ہو گیا تھا اس کے بعد بھی پہلی پتنی کی بات سن کر یہ آندولن کر رہے ہیں اس میڈیا کو آپ یہ دیکھیں وہ کیا کہہ رہا ہے یہ کہہ رہا ہے ٹائمز ناؤ کہ بیس جولائی کا جو کریک ڈاؤن ہوا تھا اس کی ڈیٹیلز مل گئی ہیں ٹائمز ناؤ کو اور ڈلی پولیس کی ڈائیری جس کو جی ڈی کہا جاتا ہے جنرل ڈائیری وہ مل گئی ہے اور ہوا کیا ہے اسے ڈائیری انٹری سے جی ڈی انٹری ریکارڈ کر رہی ہے کہ پیلٹ گنز کا استعمال ہوا ہے نین سے بالکل جاگ گیا ہمارا یہ درباری میڈیا کہہ رہا ہے پیلٹ گنز کا استعمال ہوا ہم تو اسی دن سے کہہ رہے ہیں بھئی آپ یہ دیکھیں है कि आरेफ ने फायर की पैलेट गंस और जीडी एंट्री नाम लिख रही है पैलेट डिप्लॉयमेंट का यानि दिल्ली पुलीस ने आदेश दिया आरेफ ने पैलेट गंस छोड़ी जिससे लोग जख्मी हुए और आपको याद है अच्छी तरह के एक युवा 19 शाल का तो अभी अपनी जिंदगी और मौत की बीच पहले झूल रहा था और अब इस बात का इंतजार कर रहा है कि उसकी आंख की रोशनी बचेगी या नहीं क्या वह एक आंख से दुनिया को देखेगा उसकी आंख बचेगी या नहीं मैं आद दिलाना चाहती साहिल नाम का व्यक्ति राहुल गांधी ने उसको बिलाकर बाकाइदा उससे बाचीत की उसके बाकाइदा जखमों की नुमाईश की और दिखाया कि देखिए ये वजह है ये बात है यहां ये व्यक्ति जखमी हो रहा है तो सीधे तौर पर आप इस बात को देखें तो अब इसको कहीं कई दिन गुजर जाने के बाद 20 जुलाय का एक घटना करम है और आज जाके एक हफ़ते बाद इनको यह पता चलाए कि हाँ कोई जखमी हुआ था पैलेट गंस का इस्तमाल हुआ था अब असली बात आपको बताना चाहती हूँ कि जीत हो रही है कॉक्रो जनता पार्टी की और हमारे जनजी की और वो जीत हो रही है इसका एक महतुपूर्ण पहलू यह है कि जिस बिहार सरकार ने मैं आपको अख़बार का ये advertisement दिखाना चाहती हूँ विज्ञापन जिसमें ब आरोप उनके ऊपर लगा दिया गया था तो वह सरकार जिसने उन लोगों को ग्राफ्तार किया जब दबाव पड़ा आम लोगों का और लगा के दोबारा यह आंदोलन हो जाएगा तो इन सब के खिलाफ मुकदमें वापस लिए गए इसके अलावा असम असम चाहिए फिर कार्नी भी tjp के नेता कह रहे हैं शारवाद उन्होंने ट्वीट करके बताया कि रात को एक बजे भार और शिम दों जगह चाहिए पार्टियों को मिलना चाहिए ऐशा को मिलना चाहिए ऐसा की नया पहले को प्रेडिट मिलना चाहिए कि सीधे तौर पर नेहा वहां पहुंची है और तमाम वामदलों ने भी इस पूरे मामले में लोगों को मोबिलाइज किया पुलिस ठाने गए वहां सरकार के सामने ग्यापन सौंपे और सीजेपी का भी दबाव रहा F علاوہ مجھے پشمانگال سے ابھی تک کوئی جب تک یہ ریکارڈ ہو رہا تھا کاریکرم تب تک کوئی خبر نہیں ملی راجستان کے بارے میں خبر ملی ہے کہ راجستان سے بھی وڈرال کی خبریں آ رہی ہیں تو یہ راجستان سرکار نے بھروسہ دیا ہے یہ سی جے پی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اندولن میں جو شامل تدرشن کاری ہیں ان کے خلاف کوئی نئی ایف آئی آر یا کوئی بھی دنداتمک کاروائی نہیں ہوگی اس کے علاوہ بیہار اسم کی سرکاریں پہلے بھی کہہ چکی ہیں کہ جو درج ہو چکے ہیں معاملے ان کو واپس لیا جائے گا اور آگے کاروائی نہیں کی جائے گی اس کے علاوہ سی جے پی کہہ رہی ہے کہ دیش بھر میں درست سبھی ایف آئی آر اگر واپس نہیں لی گئی تو چھاتروں کو رہا نہیں کیا گیا تو پھر سے وہ آندولن شروع کریں گے تو جب جب یہ سرکار ڈرتی ہے پولیس کو تو آگے کرتی ہے لیکن سب سے زیادہ کب ڈرتی ہے آندولن سے ڈرتی ہے جی ہاں اس کے بعد آپ یہ دیکھیں کہ سی جے پی نے یہ کہا ہے کہ سرکار نے باتچیت میں جو وعدے کیے تھے اس سے مکر گئی ہے پوری طرح سے لاغو نہیں کیا ہے اور لکھت سمجھوتیں اور کاریوائی کی سمیت سیما کی مانگ کی ہے انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اندولن کے دوران گرفتار یا پریشان کیے گئے چھاتروں پردشن کاریوں کو قانونی سہائیتہ دی جائے گی اور ان کی ادھکاروں کی رکشہ تک کے لیے سنگھرش کیا جائے گا اگلی خبر آپ کو بتاتی ہوں سکرین پر آپ یہ دیکھیں ٹویٹ ہے The Jaipur Dialogues نام سے ایک سنگھی پلیٹ فارم ہے اس کو ایک پورو آئی ایس بتایا جاتا ہے وہ چلاتے ہیں دیکھیں کیا لکھا ہے ایک معصوم سی چھوٹی عمر کی اس لڑکی کا فوٹو لگا ہوا ہے اور لکھا ہے find her she abused PM Modi abusing PM Modi اگر مان لیتے ہیں ان کے آروب کو مانتے ہیں کہ یہ سو فیصدی سچ ہے تو بھی آپ سوچئے اس طرح سے ہماری لڑکیوں کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے کہ کس طرح سے اگر اس لڑکی نے نریندر موڈی کے خلاف نارے بازی کی تو کیا اس کو اس طرح سے اس کی زندگی کو خطرے میں ڈالا جائے گا اس کی تصویر پا قائدہ ٹویٹ کی جائے گی کتنے خطرناک لوگ ہیں اور میں کہتی ہوں کتنے بزدل لوگ ہیں یہ ان کے پاس یہ جو سنگ ہے اور سنگ کی یہ سرکار ہے ان کے پاس سب کچھ ہے ان کے پاس پولیس ہے عدالت ان کی جیب میں میڈیا ان کی جیب میں پوری بیروکرسی ہے ان کے پاس دیش کی سینائیں ان کے ماتحد کام کرتی ہیں تمام پولیس ان کے ماتحد کام کرتی ہیں لیکن ایک لڑکی سے اس کے پردھانمنٹری موڈی سے سوال کرنے پر ان کو ڈر لگتا ہے یہ ڈر جاتے ہیں ایک چھوٹی سی لڑکی سے اور یہاں ذکر ہو رہا ہے گالی گلوج کا بارہ سال گزر چکے ہیں اس گالی گلوج کو میں پھر سے کہہ رہی ہوں میں جسٹیفائی نہیں کرتی ہوں یہ میری تہذیب کا حصہ نہیں ہے میں نے کبھی پردھانمنٹری نریندر موڈی کو ان کو تمام راجنیتی اور ان کی نیتیوں سے اسہمت ہونے کے باوجود بھی کبھی ان کے لیے ایک ایسے شبد کا استعمال نہیں کیا جو گرما رہت ہو کیونکہ میں چاہے ویکتی کے بارے میں جو بھی سوچتی ہوں میں اس پد کی گرما کا دھیان رکھتی ہوں میں سمجھتی ہوں کہ بھارت کے پردھانمنٹری کی اس پد کی اس کرسی کی عزت ہونی چاہیے سمویدھان میں جو اس کی جگہ ہے اس کی عزت ہونی چاہیے لیکن اس کے باوجود جو جہنزی سیکھ رہا ہے وہ کس سے سیکھ رہا ہے وہی جو گلوک اردو کا ایک شبد ہوتا ہے یعنی گالی دینے والے لوگ